قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جامع جائزہ
انسان ہمیشہ سے یہ سوال کرتا آیا ہے کہ بہترین انسان کون ہے؟ کیا وہ جو زیادہ دولت رکھتا ہو؟ یا وہ جو طاقتور ہو؟ یا وہ جو ظاہری طور پر نیک نظر آتا ہو؟ اسلام ہمیں اس سوال کا نہایت واضح اور جامع جواب دیتا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں بہترین انسان ہونے کا معیار نہ دولت ہے، نہ نسل، نہ عہدہ بلکہ تقویٰ، اخلاق اور انسانیت کی خدمت ہے۔
قرآنِ کریم کا معیارِ فضیلت
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے"
(سورۃ الحجرات: 13)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کی فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ سے ڈرتا ہو، اس کے احکامات پر عمل کرتا ہو اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہو۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہی حقیقت میں اللہ کے نزدیک بہترین انسان ہے۔
نبی ﷺ کی نظر میں بہترین انسان
نبی کریم ﷺ نے بہترین انسان کے بارے میں متعدد احادیث میں رہنمائی فرمائی ہے۔ ایک مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں"
(صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جس کا اخلاق عمدہ ہو۔ وہ نرم گفتار ہو، برداشت کرنے والا ہو، دوسروں کو تکلیف نہ دیتا ہو اور معاف کرنے کی عادت رکھتا ہو۔ اسلام میں اخلاق کو بہت بلند مقام حاصل ہے
لوگوں کے لیے فائدہ مند ہونا
ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو"
(المعجم الکبیر)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بہترین انسان وہ نہیں جو صرف اپنی عبادت میں مصروف رہے بلکہ وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے، غریب کی مدد کرے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، کسی کا دکھ بانٹے اور معاشرے میں آسانیاں پیدا کرے۔
بہترین انسان کی چند نمایاں خصوصیات
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بہترین انسان کی کچھ نمایاں صفات یہ ہیں:
-
سچائی: وہ ہر حال میں سچ بولتا ہے، چاہے نقصان ہی کیوں نہ ہو۔
-
امانت داری: اس پر جو بھی ذمہ داری ہو، وہ اسے دیانت داری سے نبھاتا ہے۔
-
حسنِ اخلاق: وہ نرم دل، خوش اخلاق اور صبر کرنے والا ہوتا ہے۔
-
انکساری: وہ تکبر سے دور رہتا ہے اور خود کو بڑا نہیں سمجھتا۔
-
عدل و انصاف: وہ اپنے اور پرائے سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔
عبادت اور معاملات میں توازن
بہترین انسان وہ ہے جو عبادت کے ساتھ ساتھ معاملات کو بھی درست رکھتا ہے۔ بعض لوگ عبادت تو بہت کرتے ہیں لیکن لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، جبکہ اسلام میں حقوق العباد کی بہت اہمیت ہے۔
آج کے دور میں بہترین انسان بننے کا طریقہ
آج کے دور میں بہترین انسان بننا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم:
-
اپنی نیت کو درست کریں
-
قرآن اور سنت کو اپنی زندگی کا رہنما بنائیں
-
اپنے اخلاق کو بہتر بنانے کی کوشش کریں
-
لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مشکل
نتیجہ
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو اللہ سے ڈرنے والا، نبی ﷺ کی سنت پر چلنے والا، اچھے اخلاق کا حامل اور لوگوں کے لیے فائدہ مند ہو۔ اسلام ہمیں ایک ایسا انسان بننے کی دعوت دیتا ہے جو اپنی ذات کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنائیں تو نہ صرف اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی پا سکتے ہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں